بنگلورو ،10؍ اکتوبر(ایس او نیوز) ریاستی وزیراعلیٰ بسواراج بومئی نے کہاکہ مذہب انسانوں کی بھلائی کے لئے ہونا چاہئے اورتنازعات وفساد مچانے کو بڑھاوا دینے والا مذہب دراصل مذہب ہی نہیں ہے -راشٹریہ بسواپرتشٹھان کی جانب سے یہاں پیلس گراؤنڈ میں منعقد کل مذہبی دھرماسنسد 2022 کا افتتاح کرتے ہوئے بومئی نے اس خیال کا اظہارکیا -
انہوں نے کہاکہ پیدائس کے وقت انسانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن آئندہ زندگی میں وہ مختلف مذاہب، ذاتوں، ذیلی ذاتوں کا پروکارہوتا ہے لیکن انسان کو چاہئے کہ انسانیت کی بقا کیلئے کام کرے -انہوں نے کہاکہ مذہب انسان کو انسانیت کی طرف لے جاتا ہے جس پر ایمانداری کے ساتھ عمل کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے - انہوں نے کہاکہ صحت مند معاشرہ کی تشکیل کیلئے تمام کو یکساں مواقع فراہم ہوناچاہئے اور یہ صرف حکومت کی ہی نہیں بلکہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے -
ریاستی وزیر برائے ہاؤزنگ وی سومنا نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں مختلف مذاہب کو ماننے والے بستے ہیں لیکن ہر ایک کو اپنے مذہب کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کا بھی احترام کرنا چاہئے- انہوں نے آواز دی کہ سدگنگامٹھ کے آنجہانی شیوکمار سوامی جی کے اصولوں کو اپنایا جائے -راشٹریہ بسواپرتشٹھان کے اعزازی صدر رمضان درگاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انسانوں کو چاہئے کہ بھگوت گیتا، قرآن، بائبل سمیت تمام مذاہب کے تعلیمات اور اصولوں پر عمل کریں تو مذاہب کے درمیان تنازعات کا موقع نہیں ملے گا-
دھرما سنسد میں سپریم کورٹ کے وظیفہ یاب جسٹس وی گوپال گوڈا، اسرو کے سابق کرن کمار، ترلا بالو مٹھ کے پنڈت آرادھیا شیواچاریہ سوامی، ہائی کورٹ کے وظیفہ یاب جسٹس ناگ موہن داس، پرتشٹھان کے صدر ڈاکٹر سریش ودیگر حاضر رہے -